رسانی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - پہنچانا۔ "لذت رسانی شاعری کی اقدار میں سے ایک اہم قدر قرار پائی ہے۔" ( ١٩٦٢ء، شاعری اور تخیل، ١٠٧ )
اشتقاق
فارسی میں رسیدن مصدر سے اسم فاعل 'رسا | رساں' کے ساتھ 'نی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'رسانی' بنا۔ اردو میں اصل مفہوم اور ساخت کے ساتھ داخل ہوا۔ سب سے پہلے ١٩٢٩ء میں "تذکرۃ کاملانِ رام پور" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پہنچانا۔ "لذت رسانی شاعری کی اقدار میں سے ایک اہم قدر قرار پائی ہے۔" ( ١٩٦٢ء، شاعری اور تخیل، ١٠٧ )
اصل لفظ: رسیدن
جنس: مؤنث