رسانیت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - نرمی، پیار، آہستگی۔ "ناسمجھ ہے، رسانیت سے سمجھانا ہوگا۔"      ( ١٩٦٢ء، معصومہ، ٥٥ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'رسان' کے ساتھ 'یت' عربی قاعدے کے تحت بطور 'لاحقۂ کیفیت' لگانے سے 'رسانیت' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٣٢ء کو "روح ظرافت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نرمی، پیار، آہستگی۔ "ناسمجھ ہے، رسانیت سے سمجھانا ہوگا۔"      ( ١٩٦٢ء، معصومہ، ٥٥ )

اصل لفظ: سنسکرت
جنس: مؤنث