رساں

قسم کلام: صفت ذاتی ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - پہنچانے والا، لانے والا، دینے والا، جیسے : چِٹھی رساں، خبر رساں، ضرر رساں۔ "یہ تعلق جہاں امیروں کے لیے عیب ہے وہاں غریبوں کے لیے تکلیف رساں بھی ہے۔"      ( ١٩٧٣ء، جہانِ دانش، ٦٩ ) ٢ - پہنچا ہوا، پہنچنے والا۔ "آگے کے حکیماں کہ جنو کی عقل نہایت رساں اور دراک تھی اونو روح کی پجھانت میں حیران ہوئے ہیں۔"      ( ١٧٧٢ء، شاہ میر (سید محمد)، انتباہ الطالبین، ٤٣ )

اشتقاق

فارسی زبان میں 'رسیدن' مصدر سے اسم فاعل ہے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا۔ عموماً بطور لاحقۂ فاعلی استعمال ہوتا ہے سب سے پہلے ١٩٠٧ء میں "کرزن نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پہنچانے والا، لانے والا، دینے والا، جیسے : چِٹھی رساں، خبر رساں، ضرر رساں۔ "یہ تعلق جہاں امیروں کے لیے عیب ہے وہاں غریبوں کے لیے تکلیف رساں بھی ہے۔"      ( ١٩٧٣ء، جہانِ دانش، ٦٩ ) ٢ - پہنچا ہوا، پہنچنے والا۔ "آگے کے حکیماں کہ جنو کی عقل نہایت رساں اور دراک تھی اونو روح کی پجھانت میں حیران ہوئے ہیں۔"      ( ١٧٧٢ء، شاہ میر (سید محمد)، انتباہ الطالبین، ٤٣ )

اصل لفظ: رَسِیدَن