رستمی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - مردانگی، بہادری، جرات، شجاعت، زورآوری، زبردستی۔ "ہم طاقت کو انسان . کے عُضلات کے رستمی کارناموں کا قطعی سرچشمہ قرار دینے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٣٧ء، فلسفہ نتائجیت (ترجمہ)، ١١٢ )

اشتقاق

فارسی میں اسم علم 'رستم' کے آگے 'ی' بطورِ لاحقۂ نسبتی | صفت لگا کر اسم بنایا گیا ہے۔ اردو میں اصل مفہوم کے ساتھ داخل ہوا۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء میں حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مردانگی، بہادری، جرات، شجاعت، زورآوری، زبردستی۔ "ہم طاقت کو انسان . کے عُضلات کے رستمی کارناموں کا قطعی سرچشمہ قرار دینے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٣٧ء، فلسفہ نتائجیت (ترجمہ)، ١١٢ )

اصل لفظ: رستم
جنس: مؤنث