رشید

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - حق کی ہدایت پائے ہوئے، صراط مستقیم کا پیرو، خدا ترس، حق شناس۔  صوفی عالم رشید و احد والا گہران صاحب جاہ    ( ١٨٨٩ء، کلیات شبلی، ١٨ ) ٢ - ہدایت دینے والا، خدائے تعالٰی کا اسم صفت۔  تو رشید و جامع و وہاب تو برومقیت تو علی ہے تو ولی ہے تو غنی ہے تو ممیت    ( ١٩٨٤ء، الحمد، ٨٥ ) ٣ - تربیت یافتہ، پرورش کردہ، تعلیم یافتہ۔  خیرہ کے لیے دیتا ہے نگاہوں کو چمک کر ہر ذرہ ہے خورشید کا شاگرد رشید آج    ( ١٩١٤ء، فرودس تخیل، ٣٢١ ) ٤ - سعادت مند، ہونہار، اطاعت گزار۔ "ایک رشید شاگرد کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ خوش خلقی ایک اچھی عبادت ہے۔"    ( ١٩٠٨ء، اساس الاخلاق، ٣٣ ) ٦ - فرمانبردار، تابعدار۔ "میر مہر علی اس کے کئی بیٹے جوان مر گئے خدا خدا کرکے میر محمد ہادی وحید جوان اور رشید ہوئے۔"      ( ١٩١٨ء، پیران سخن، ٢٧٨ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق صفت ہے۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٤ - سعادت مند، ہونہار، اطاعت گزار۔ "ایک رشید شاگرد کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ خوش خلقی ایک اچھی عبادت ہے۔"    ( ١٩٠٨ء، اساس الاخلاق، ٣٣ ) ٦ - فرمانبردار، تابعدار۔ "میر مہر علی اس کے کئی بیٹے جوان مر گئے خدا خدا کرکے میر محمد ہادی وحید جوان اور رشید ہوئے۔"      ( ١٩١٨ء، پیران سخن، ٢٧٨ )

اصل لفظ: رشد