رعایا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - مطیع، کسی حاکم کے زیرِ فرمان رہنے والے لوگ (رعیّت کی جمع) "لفظ رعایا کو رعایت پر اور لفظ ہجر کو ہجرت پر محمول کر لیا۔"      ( ١٩٧٢ء، حسنِ تلفظ، ١١٣ ) ٢ - کرایہ دار، محکوم؛ زیرِ حمایت۔ (ماخوذ : فرہنگِ آصفیہ)

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم مشتق ہے۔ اردو میں اصل مفہوم اور ساخت کے ساتھ داخل ہوا۔ سب سے پہلے ١٨٧٦ء میں "شرحِ قانونِ شہادت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مطیع، کسی حاکم کے زیرِ فرمان رہنے والے لوگ (رعیّت کی جمع) "لفظ رعایا کو رعایت پر اور لفظ ہجر کو ہجرت پر محمول کر لیا۔"      ( ١٩٧٢ء، حسنِ تلفظ، ١١٣ )

اصل لفظ: رعی
جنس: مؤنث