رعیت
معنی
١ - وہ لوگ جو بادشاہ یا راجہ کی سلطنت میں آباد ہوں، پرجا، رعایا۔ "معاشرہ بادشاہ و جاگیردار اور رعیت پر مبنی تھا۔" ( ١٩٨٦ء، تاریخ اور آگہی، ٨١ ) ٢ - مالگزار، کاشتکار، اسامی۔ "ایک سال کا خراج رعیت کو معاف کیا۔" ( ١٨٤٥ء، نغمۂ عندلیب، ١٢٢ ) ٣ - نوکر، ملازم، متعلقین۔ "ہماری طرف سے تم ان کو آج ہی نکال دو. چاہے تلوار سے ان کا سر کاٹ ڈالو ہم تو تمہاری رعیت ہیں۔" ( ١٨٦٨ء، رسوم ہند، ١٣١ ) ٥ - پٹائی پرکاشت کرنے والا مزارع، ایسی زمین پر کاشت کرنے والا جو اس کی ملکیت نہو۔ "اپنے علاقے کے بااثر و ڈیروں کی رعیت بنے ہوئے ہیں۔" ( ١٩٨٤ء، سندھ اور نگاہ قدر شناس، ٧٤ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٦٩ء کو "آخر گشت" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - وہ لوگ جو بادشاہ یا راجہ کی سلطنت میں آباد ہوں، پرجا، رعایا۔ "معاشرہ بادشاہ و جاگیردار اور رعیت پر مبنی تھا۔" ( ١٩٨٦ء، تاریخ اور آگہی، ٨١ ) ٢ - مالگزار، کاشتکار، اسامی۔ "ایک سال کا خراج رعیت کو معاف کیا۔" ( ١٨٤٥ء، نغمۂ عندلیب، ١٢٢ ) ٣ - نوکر، ملازم، متعلقین۔ "ہماری طرف سے تم ان کو آج ہی نکال دو. چاہے تلوار سے ان کا سر کاٹ ڈالو ہم تو تمہاری رعیت ہیں۔" ( ١٨٦٨ء، رسوم ہند، ١٣١ ) ٥ - پٹائی پرکاشت کرنے والا مزارع، ایسی زمین پر کاشت کرنے والا جو اس کی ملکیت نہو۔ "اپنے علاقے کے بااثر و ڈیروں کی رعیت بنے ہوئے ہیں۔" ( ١٩٨٤ء، سندھ اور نگاہ قدر شناس، ٧٤ )