رفوچکر

قسم کلام: متعلق فعل

معنی

١ - غائب، فرار۔ "ماموں کی آواز سنتے ہی استاد رفو چکر ہو جاتے"      ( ١٩٨٤ء، کیمیا گر، ١٦ ) ٢ - حیران پریشان، سرگرداں۔ "عطا محمد کی ساری اکڑفوں رفوچکر ہو جائے گی"      ( ١٩٧٥ء، بدلتا ہے رنگ آسمان، ١٤٥ )

اشتقاق

فارسی اسم 'رفو' کے ساتھ اردو میں اسم 'چکر' ملا کر مرکب کیا گیا ہے۔ اور بطور متعلق فعل مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٦٨ء میں "شعلہ جوالہ، (واسوخت راحت)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غائب، فرار۔ "ماموں کی آواز سنتے ہی استاد رفو چکر ہو جاتے"      ( ١٩٨٤ء، کیمیا گر، ١٦ ) ٢ - حیران پریشان، سرگرداں۔ "عطا محمد کی ساری اکڑفوں رفوچکر ہو جائے گی"      ( ١٩٧٥ء، بدلتا ہے رنگ آسمان، ١٤٥ )