رفیق

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ساتھ رہنے والا، ہمراہی، ہم سفر، مصاحب، دوست، جلیس، ہمنشین۔ "چڑیوں کے دو جوڑے ہمیشہ سے چھت میں رہتے تھے اور عیدو کی تنہائی کے رفیق تھے"      ( ١٩٨٦ء، جوالا مکھ، ٥٨ ) ٢ - محبت رکھنے والا، مہربان۔  اس وقت بھی خموش رہی چشم پوش رات جب آخری رفیق بھی دشمن سے مل چکا      ( ١٩٧٧ء، خوشبو، ٣٥١ ) ٣ - وفادار، خیر خواہ، ہمدرد، مددگار۔ "اس غیر ضروری دباؤ کا مقابلہ وائس چانسلر اور اس کے رفیقوں کو کرنا پڑتا ہے"      ( ١٩٨٧ء، نگار، اکتوبر، ٥ ) ٤ - [ ریاضی ]  وہ دو عدد جن میں دوسرے کے اجزائے ضربی کا مجموعہ پہلے کے برابر ہو۔ (داستانِ ریاضی، 121) ٥ - [ کنایۃ ]  رکن علمی، علم دوست۔ "نیوٹن کیمبرج واپس آیا تو اس کو کالج کا رفیق منتخب کر لیا گیا"      ( ١٩٤٥ء، طبیعیات کی داستان، ١٥٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل مفہوم اور ساخت کے ساتھ داخل ہوا۔ سب سے پہلے ١٦٠٩ء میں "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ساتھ رہنے والا، ہمراہی، ہم سفر، مصاحب، دوست، جلیس، ہمنشین۔ "چڑیوں کے دو جوڑے ہمیشہ سے چھت میں رہتے تھے اور عیدو کی تنہائی کے رفیق تھے"      ( ١٩٨٦ء، جوالا مکھ، ٥٨ ) ٣ - وفادار، خیر خواہ، ہمدرد، مددگار۔ "اس غیر ضروری دباؤ کا مقابلہ وائس چانسلر اور اس کے رفیقوں کو کرنا پڑتا ہے"      ( ١٩٨٧ء، نگار، اکتوبر، ٥ ) ٥ - [ کنایۃ ]  رکن علمی، علم دوست۔ "نیوٹن کیمبرج واپس آیا تو اس کو کالج کا رفیق منتخب کر لیا گیا"      ( ١٩٤٥ء، طبیعیات کی داستان، ١٥٣ )

اصل لفظ: رفق
جنس: مذکر