رقابت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - وہ چونپ جو ہم پیشگی یاہمسری کی بنا پر ہوتی ہے (خصوصاً ایک معشوق کے دو عاشقوں میں)، ہمسرانہ چشمک، حریفوں کا باہمی رشک یا حسد یا مقابلہ۔ "ان کی جواہر لال ہے چشمک ہی نہیں بلکہ باقاعدہ رقابت موجود تھی"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٥١٠ ) ٢ - نگہبانی، پناہ، حفاظت۔ "چونکہ ہم پہلے سے سید حبیب کے یہاں ٹھرنے کے ارادے سے آئے تھے اس واسطے ہم کو اون کی رقابت سے امان رہی"      ( ١٩١١ء، روزنامچہ سیاحت، ٥٢:١ )

اشتقاق

عربی میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم مشتق ہے اردو میں اصل معنی اور ساخت کے ساتھ داخل ہوا۔ سب سے پہلے "اصولِ سیاست مدن" میں ١٨٦٨ء میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ چونپ جو ہم پیشگی یاہمسری کی بنا پر ہوتی ہے (خصوصاً ایک معشوق کے دو عاشقوں میں)، ہمسرانہ چشمک، حریفوں کا باہمی رشک یا حسد یا مقابلہ۔ "ان کی جواہر لال ہے چشمک ہی نہیں بلکہ باقاعدہ رقابت موجود تھی"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٥١٠ ) ٢ - نگہبانی، پناہ، حفاظت۔ "چونکہ ہم پہلے سے سید حبیب کے یہاں ٹھرنے کے ارادے سے آئے تھے اس واسطے ہم کو اون کی رقابت سے امان رہی"      ( ١٩١١ء، روزنامچہ سیاحت، ٥٢:١ )

اصل لفظ: رقب
جنس: مؤنث