رلانا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - رونا کا متعدی: رونا (کسی رنج، دُکھ یا تکلیف سے آنسو بہانا) "جب وہ رُلاتے تھے تو خود تماشائی نہیں بنتے تھے۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائلِ پاکستان، ١٠٠ ) ٢ - تنگ کرنا، ستانا، بہت تکلیف دینا، سخت صدمہ پہنچانا۔  عیش کا اب تو نام تک صفحۂ دل سے مٹ گیا مار کے حسرتوں نے آہ مُجکو رُلا رُلا دیا      ( ١٩٢٧ء، شادعظیم آبادی، بادہ عرفان، ٦٩ )

اشتقاق

پراکرت زبان میں فعل لازم 'رونا' سے اردو قاعدے کے تحت فعل متعدی بنایا گیا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء میں حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رونا کا متعدی: رونا (کسی رنج، دُکھ یا تکلیف سے آنسو بہانا) "جب وہ رُلاتے تھے تو خود تماشائی نہیں بنتے تھے۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائلِ پاکستان، ١٠٠ )

اصل لفظ: رونا