رلنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - اُوپر اُوپر سے رول کر الگ کیا جانا، رولا جانا، پھٹک کر صاف کیا جانا۔  اپنی آنکھوں میں جو ہنس ہنس کے وہ گل سُرمہ دے خاک پہ موتی رُلیں ڈوبیں ہرن دریا میں      ( ١٩١١ء، بہارستان خیال، ٦٨ ) ٢ - پامال ہونا، خاک پر گرنا یا ٹھوکریں کھانا، تباہ ہونا۔ "کہتا ہے تو کہتا رہے مرتا ہے تو گھر میں مروں گی ہسپتال میں نہیں رُلوں گی"      ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ١٠٧ ) ٣ - بے قدری ہونا، بے قدر ہونا۔ "جس چیز پر ایمان کا دارو مدار وہ پاؤں میں رُلتی پھر رہی ہے"      ( ١٩٠٨ء، صبحِ زندگی، ١١٦ ) ٤ - روندا جانا، ٹھکرایا جانا، اِدھر اُدھر گھسیٹا جانا، قدرو منزلت نہ ہونا۔  رُلتا پھرتا ہے مرا کاسۂ سر خاک کے بیچ دیکھے ہے مرے طالع میں لکھا کیا کیا کچھ      ( ١٩٤٢ء، مرزا دو نایابِ زمانہ بیاضیں، ٩٠ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ فعل متعدی رولنا کا لازم ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٠٩ء میں "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - پامال ہونا، خاک پر گرنا یا ٹھوکریں کھانا، تباہ ہونا۔ "کہتا ہے تو کہتا رہے مرتا ہے تو گھر میں مروں گی ہسپتال میں نہیں رُلوں گی"      ( ١٩٨٣ء، ساتواں چراغ، ١٠٧ ) ٣ - بے قدری ہونا، بے قدر ہونا۔ "جس چیز پر ایمان کا دارو مدار وہ پاؤں میں رُلتی پھر رہی ہے"      ( ١٩٠٨ء، صبحِ زندگی، ١١٦ )

اصل لفظ: رولَتِ