رمی

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - (حج) مقرر طریقے سے مقام منا میں کنکریاں پھینکنے کا عمل۔ "کوئی رمی کے معنی تیر پھینکنے کے نہ لے کہ آپ نے اس موقع پر کیا تمام عمر میں سخت سے سخت خطرہ میں بھی کبھی تیغ و تبر . سے دستِ مبارک کو آلودہ نہیں کیا"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٥٣:٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم ہے اردو میں اصل معنی اور ساخت کے ساتھ مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٩١ء میں "کنزالآخرۃ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (حج) مقرر طریقے سے مقام منا میں کنکریاں پھینکنے کا عمل۔ "کوئی رمی کے معنی تیر پھینکنے کے نہ لے کہ آپ نے اس موقع پر کیا تمام عمر میں سخت سے سخت خطرہ میں بھی کبھی تیغ و تبر . سے دستِ مبارک کو آلودہ نہیں کیا"      ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٥٣:٣ )

اصل لفظ: رمی
جنس: مؤنث