رنجش

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - خفگی، آزردگی، ناخوشی، کدورت، عداوت۔  جو رنجشیں تھیں، جو دل میں غبار تھا نہ گیا کہ اب کی بار گلے مِل کے بھی گلہ نہ گیا      ( ١٩٧٩ء، جاناں جاناں، ٣٠ ) ٢ - صدمہ، تکلیف، غم، دلگیری۔ "لفظ اور معنی کے الجھاؤ میں رنجش کے کسیلے ذائقوں سے ہم تعلق کی سبھی سطحوں سے زہرِ بدگمانی، بے یقینی اور سیاہ بختی کی کالک مَل رہے تھے۔"      ( ١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ٩١ ) ٣ - بیماری، درد، مرض۔ "طرح بہ طرح کی رنجشیں جو نسوں کی تخریش اور خون کے غلبے سبب سے اس حمل کے ایام میں ہوئی ہیں سو ان کا ویسا ہی علاج کرنا۔"      ( ١٩٤٨ء، اصولِ فن قبالت، ٥١ ) ٤ - اختلاف، کشیدگی، بگاڑ۔  جاگتی آنکھ بولتا ہوا خواب اک ہنسی لاکھ رنجشوں کا جواب      ( ١٩٥٧ء، نبضِ دوراں، ٨٢ ) ٥ - تکرار، بحث۔ "نہیں معلوم میں نے آج صبح کو کس کا مونہہ دیکھا ہے کہ ابھی منجو صاحب سے ایک خفیف سی بات پر رنجش ہوتے ہوتے رہ گئی۔"      ( ١٩٢٩ء، بہارعیش، ٩ )

اشتقاق

رَنْجِیْدن  رَنْج  رَنْجِش

مثالیں

٢ - صدمہ، تکلیف، غم، دلگیری۔ "لفظ اور معنی کے الجھاؤ میں رنجش کے کسیلے ذائقوں سے ہم تعلق کی سبھی سطحوں سے زہرِ بدگمانی، بے یقینی اور سیاہ بختی کی کالک مَل رہے تھے۔"      ( ١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ٩١ ) ٣ - بیماری، درد، مرض۔ "طرح بہ طرح کی رنجشیں جو نسوں کی تخریش اور خون کے غلبے سبب سے اس حمل کے ایام میں ہوئی ہیں سو ان کا ویسا ہی علاج کرنا۔"      ( ١٩٤٨ء، اصولِ فن قبالت، ٥١ ) ٥ - تکرار، بحث۔ "نہیں معلوم میں نے آج صبح کو کس کا مونہہ دیکھا ہے کہ ابھی منجو صاحب سے ایک خفیف سی بات پر رنجش ہوتے ہوتے رہ گئی۔"      ( ١٩٢٩ء، بہارعیش، ٩ )

اصل لفظ: رَنْجِیْدن
جنس: مؤنث