رنجیدگی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - رنجش، خفگی، آزردگی۔ "علیک سلیک ہوئی تو ہم یہ محسوس کیے بغیر نہ رہے کہ ان کے چہرے سے ایک سنجیدگی اور رنجیدگی برس رہی ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٧٩٩ )

اشتقاق

فارسی میں 'رنجیدن' مصدر سے اسم صفت 'رنجیدہ' کی 'ہ' ہٹا کر 'گی' بطور لاحقۂ کیفیت لگایا گیا ہے اور اسم بنایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٦٥ء میں 'علی نامہ' میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رنجش، خفگی، آزردگی۔ "علیک سلیک ہوئی تو ہم یہ محسوس کیے بغیر نہ رہے کہ ان کے چہرے سے ایک سنجیدگی اور رنجیدگی برس رہی ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٧٩٩ )

اصل لفظ: رَنْجِیْدن
جنس: مؤنث