رندانہ
معنی
١ - رِند یا رِندی سے نسبت رکھنے والا، رِند کی طرح، رِندوں کی طرح۔ خُمخانہ معرفت کے در پر رندانہ صفی لگاؤ بستر ( ١٩٢٨ء، تنظیم الحیات، ١ ) ٢ - [ بطور صفت ] کمینے، لُچے۔ کہتا ہے تو کیا جاہل رندانے آدمی ہیں رندانے آدمی فرزانے آدمی ہیں ( ١٨٩٢ء، مہتاب داغ، ٢٤٧ ) ٣ - دلیرانہ، والہانہ، مستانہ۔ "وہ رندانہ قدم بڑھاتے گئے اور اُنکے بڑھتے ہوئے قدموں سے مظاہرین اور فوج میں بھگڈر مچ گئی۔" ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٣٦٤ ) ٤ - آزادانہ، بےبا کانہ۔ "اس قسم کی زندانہ گفتگو کی عادت اُسے دیس دیس بھٹک کر پڑ گئی تھی۔" ( ١٩٨٢ء، پچھتاوے، ١٧٩ )
اشتقاق
فارسی سے اسم فاعل 'رند' کے ساتھ 'انہ' بطور لاحقہ تمیز بڑھا کر بنایا گیا ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا۔ سب سے پہلے ١٨٠٥ء میں 'آرائش محفل' میں مستعمل ملتا ہے۔ اردو میں شاذ بطورِ اسم صفت بھی مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٣ - دلیرانہ، والہانہ، مستانہ۔ "وہ رندانہ قدم بڑھاتے گئے اور اُنکے بڑھتے ہوئے قدموں سے مظاہرین اور فوج میں بھگڈر مچ گئی۔" ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٣٦٤ ) ٤ - آزادانہ، بےبا کانہ۔ "اس قسم کی زندانہ گفتگو کی عادت اُسے دیس دیس بھٹک کر پڑ گئی تھی۔" ( ١٩٨٢ء، پچھتاوے، ١٧٩ )