رنڈی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - عورت، بیوی۔ "عورت کو رنڈی کہنے کی رسم زبانِ اردو کے مولدو منشا اور مرکز یعنی دہلی سے نکلی۔"      ( ١٩٥٠ء، چھان بین، ٢٢٠ ) ٢ - پیشہ کمانے والی عورت، کسبی، قحبہ، کنچنی، گانے والی، بیسوا، طوائف۔ "رنڈی سب سے بڑا لفظ تھا، کہتے رنڈی ڈال رکھی ہے یا رانڈ کے گھر پڑا ہوا ہے"      ( ١٩٧٤ء، پھر نظر میں پھول مہکے، ٧١ ) ٣ - بیوہ جسکا شوہر مر گیا ہو۔ "رنڈی سے مراد بیوہ ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، احکام کے متعلق عطیات، ١٧ )

اشتقاق

پراکرت زبان میں اسم ہے۔ اردو میں اصل مفہوم کے ساتھ عربی رسم الخط کے ساتھ مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٤٦ء میں "قصہ مہر افروز و دلبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عورت، بیوی۔ "عورت کو رنڈی کہنے کی رسم زبانِ اردو کے مولدو منشا اور مرکز یعنی دہلی سے نکلی۔"      ( ١٩٥٠ء، چھان بین، ٢٢٠ ) ٢ - پیشہ کمانے والی عورت، کسبی، قحبہ، کنچنی، گانے والی، بیسوا، طوائف۔ "رنڈی سب سے بڑا لفظ تھا، کہتے رنڈی ڈال رکھی ہے یا رانڈ کے گھر پڑا ہوا ہے"      ( ١٩٧٤ء، پھر نظر میں پھول مہکے، ٧١ ) ٣ - بیوہ جسکا شوہر مر گیا ہو۔ "رنڈی سے مراد بیوہ ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، احکام کے متعلق عطیات، ١٧ )

جنس: مؤنث