رنگیلا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - رنگین، رنگ دار، رنگا رنگ۔  رنگیلا ہے چمن شاہی گلاں نے ولی سے قطب ہور شاہِ مرسلاں نے      ( ١٧٠٥ء، در مجالس(ق)، ١ ) ٢ - بانکا، سجیلا، چھبیلا۔  میری دھرتی تو بنی بیٹھی ہے دلہن دیکھو بیاہنے آیا ہے ساون کا رنگیلا راجا      ( ١٩٦٢ء، ہفت کشور، ٢٥٩ ) ٣ - معشوق، دوست۔  تو نازنین رسیلا تو بے وفا رنگیلا      ( ١٧١٣ء، دیوان فائز دہلوی، ١٩٤ ) ٤ - عاشقانہ، محبت بھرے۔  رنگیلے شعر کا کہنا کیا ترک مدت سوں ترا یو قد ہوا ہے پھر کے باعث فکرِ عالی کا      ( کلیاتِ ولی، ٢٩ ) ٥ - عاشق مزاج، رنگین طبع۔ "آغا کسی زمانے میں بڑے رنگیلے تھے۔"      ( ١٩٨٢ء، پچھتاوے، ١٨٥ )

اشتقاق

فارسی اسم 'رنگ' کے ساتھ 'یلا' بطور لاحقۂ صفت لگا کر بنایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦١١ء میں قلی قطب شاہ کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٥ - عاشق مزاج، رنگین طبع۔ "آغا کسی زمانے میں بڑے رنگیلے تھے۔"      ( ١٩٨٢ء، پچھتاوے، ١٨٥ )

اصل لفظ: رَنْگ
جنس: مذکر