رنگین

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جس پر رنگ چڑھا ہوا ہو، رنگ دار۔ "مزکوٹ . کے اساس پر غدود موجود ہوتے ہیں اور عام طور پر رنگیں ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٨١ء، آسان نباتیات، ١٦٤ ) ٢ - رنگ برنگ، خوبصورت۔  روشن دلِ عارف سے فزوں ہے بدن اُن کا رنگیں ہے طبیعت کی طرح پیرہن اُن کا      ( ١٨٨٥ء، کلیات اکبر، ٦٠:١ ) ٣ - خوش بیان، رنگیں بیان۔  شاعرِ رنگین نہیں مجھ سا کوئی فائزِ شیدا خدا کے فضل سوں      ( ١٧١٣ء، دیوان فائز دہلوی، ١٩٠ ) ٤ - لطیف، دل پسند، مزے دار۔  ظفر جو اس لبِ رنگیں سے ہوا جواب طلب تو دے جواب وہ کیا کیا جواب پر رنگیں      ( ١٨٤٩ء، کلیات ظفر، ٧٢:٤ ) ٥ - رنگین مزاج، شوخ  برا کہتے ہیں گر تجھ پیر کو اے شاد کیا شکوہ جوانوں کی طبیعت کچھ نہ کچھ رنگین ہوئی ہے      ( ١٩٢٧ء، میخانہ الہام، ٣٨١ ) ٦ - مست، مدہوش۔  وقت ہے اب کہ بیٹھیے نہ حزیں پی کے مے کیجئے قصہ کو رنگیں      ( ١٧٩١ء، حسرت لکھنوی، طوطی نامہ، ٣١ ) ٧ - گولہ کبوتر جو خوش رنگ ہوتا ہے۔ "کبوتروں کی سب قسموں میں ایک قسم گولہ کی ہے اور گولہ دو قسم پر ہے ٹینی اور اصیل . اصیل خوشرنگ سے مراد ہے کہ اس کو رنگین بھی کہتے ہیں۔"      ( ١٨٨٥ء، مجمع الفنون (ترجمہ)، ٢٠٤ )

اشتقاق

فارسی اسم 'رنگ' کے ساتھ 'ین' بطور لاحقۂ صفت لگا کر بنایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٧٦ء میں "کلیاتِ شاہی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس پر رنگ چڑھا ہوا ہو، رنگ دار۔ "مزکوٹ . کے اساس پر غدود موجود ہوتے ہیں اور عام طور پر رنگیں ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٨١ء، آسان نباتیات، ١٦٤ ) ٧ - گولہ کبوتر جو خوش رنگ ہوتا ہے۔ "کبوتروں کی سب قسموں میں ایک قسم گولہ کی ہے اور گولہ دو قسم پر ہے ٹینی اور اصیل . اصیل خوشرنگ سے مراد ہے کہ اس کو رنگین بھی کہتے ہیں۔"      ( ١٨٨٥ء، مجمع الفنون (ترجمہ)، ٢٠٤ )

اصل لفظ: رَنْگ