روا
معنی
١ - جس بات میں کوئی مذہبی اخلاقی یا قانونی حرج نہ ہو، جائز، مباح۔ ہوتا ہے روا سب کچھ اب جنگ و محبت میں ہر وعدہ و پیماں سے تم صاف مُکر جانا ( ١٩٨٦ء، غارِ ماہ، ٨٤ ) ٢ - درست، بجا، مناسب۔ ناآشنائے درد کو شکوہ سے کیا غرض تم کو شکایتِ غم فرقت رواسہی ( ١٩٤٧ء، میں ساز ڈھونڈتی رہی، ٣٦ ) ٣ - جاری، رواں۔ کر دیا میں نے رگوں میں خوں روا ٹھنڈ سے شل ہو گئے تھے دست و پا ( ١٩١١ء، کلیات اسماعیل، ١٩٧ ) ٤ - پورا، تکمیل یافتہ (کام، حاجت وغیرہ)۔ مکمل۔ اس قول کو میرے مانے کا جو صاحبِ دل ہے دانا ہے کہتے ہیں جسے شاہنشاہی حاجت کا روا ہو جانا ہے ( ١٩٢٠ء، روحِ ادب، ٢٨ )
اشتقاق
فارسی میں 'رفتن' مصدر سے فعل امر 'رُو' کے ساتھ 'ا' بطور لاحقہ فاعلی لگا کر مرکب کیا گیا ہے اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے سب سے پہلے ١٦٣٥ء میں "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔