رواج

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کسی بات کا عام چلن یا دستور، کسی چیز کا عام استعمال یا معمول میں ہونا، رائج یا جاری ہونا۔ "یہاں ڈسکش . کا کیوں رواج نہیں۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٩٣ ) ٢ - ریت، رسم، قاعدہ۔ "انڈونیشیا کے بعض جزائر میں اب بھی یہ رواج ہے کہ لڑکی کی پیدائش کے بعد سالگرہ پر مٹی کا ایک چھوٹا سا گولا بنا کر رکھ دیا جاتا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، ہند سے اور انکی تاریخ، ١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا۔ سب سے پہلے ١٥٠٣ء میں "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی بات کا عام چلن یا دستور، کسی چیز کا عام استعمال یا معمول میں ہونا، رائج یا جاری ہونا۔ "یہاں ڈسکش . کا کیوں رواج نہیں۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٩٣ ) ٢ - ریت، رسم، قاعدہ۔ "انڈونیشیا کے بعض جزائر میں اب بھی یہ رواج ہے کہ لڑکی کی پیدائش کے بعد سالگرہ پر مٹی کا ایک چھوٹا سا گولا بنا کر رکھ دیا جاتا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، ہند سے اور انکی تاریخ، ١ )

اصل لفظ: روج
جنس: مذکر