رواقیت

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - حکمتِ افلاطون، فلسفۂ افلاطون (چونکہ وہ دالان یا روّاق میں بیٹھ کر تعلیم دیتا تھا اس لیے یہ نام پڑا) (انگریزی: Stoicism) "رِوّاقِیت ضبطِ جذبات کی اور راخت والَم کے احساسات سے بلند ہو جانے کی تلقین کرتی ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ٨٩ )

اشتقاق

عربی میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'رواقی' (رواق + 'ی' لاحقہ صفت) کے آگے 'یت' بطور لاحقۂ نسبت و کیفیت لگا کر بنایا گیا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩٤٧ء میں "اقبال نئی تشکیل" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حکمتِ افلاطون، فلسفۂ افلاطون (چونکہ وہ دالان یا روّاق میں بیٹھ کر تعلیم دیتا تھا اس لیے یہ نام پڑا) (انگریزی: Stoicism) "رِوّاقِیت ضبطِ جذبات کی اور راخت والَم کے احساسات سے بلند ہو جانے کی تلقین کرتی ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ٨٩ )

اصل لفظ: روق
جنس: مؤنث