روباہی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - فریب، چال، مکر، بزدلی۔  آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی     "رُوباہی، کلمہ سازی، حیلہ گری . کا گولا لعاب . رس رس کر ٹپکتا تھا۔"      ( ١٩٣٥ء، باِل جبریل، ٨٣ )( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ١٠٢٣ )

اشتقاق

فارسی میں اسم 'روباہ' کے آگے 'ی' لاحقہ کیفیت لگا کر بنایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨١٧ء میں شاہ نورالحق تپاں کے ہاں "صوفیائے بہار اور اردو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فریب، چال، مکر، بزدلی۔  آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی     "رُوباہی، کلمہ سازی، حیلہ گری . کا گولا لعاب . رس رس کر ٹپکتا تھا۔"      ( ١٩٣٥ء، باِل جبریل، ٨٣ )( ١٩٨٧ء، شہاب نامہ، ١٠٢٣ )

اصل لفظ: رُوباہ
جنس: مؤنث