روبکار

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - سامنا، پیشی۔  سنتے ہیں مرگ و زیست کا اس دن تھا رُوبکار اِک دم میں مار ڈالے وہ لاکھوں تھے جو سوار      ( ١٧٦١ء، جنگ نامہ پانی پت (ق)، ٢٣ ) ٢ - کسی عدالت کا تحریری حکم، پروانہ، سرکاری چٹھی۔ "ایک رُوبکار محکمہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر سے . صادر ہوئی ہے۔"      ( ١٩١٤ء، مقالاتِ حالی، ٦٤:٢ )

اشتقاق

فارسی میں اسم 'رُو' کے ساتھ حرف جار 'ب' کے ذریعے 'کردن' مصدر سے مشتق فعل امر 'کار' ملا کر مرکب بنایا گیا ہے اور میں بطور اسم مستعمل ہے۔ اردو سب سے پہلے ١٧٦١ء میں "جنگ نامہ پانی پت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - کسی عدالت کا تحریری حکم، پروانہ، سرکاری چٹھی۔ "ایک رُوبکار محکمہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر سے . صادر ہوئی ہے۔"      ( ١٩١٤ء، مقالاتِ حالی، ٦٤:٢ )