روزانہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - روزِینہ۔ (نوراللغات) ٢ - مغلیہ عہد میں رائج ایک قسم کا ٹیکس۔ "سالانہ، فصلانہ، ماہانہ، جمعگی، روزانہ، عیدی وغیرہ۔"      ( ١٩٧٥ء، شاہراہِ انقلاب، ٨ ) ١ - ہر روز، ہر روز کا، ہر روز واقع ہونے والا۔ "راجا نے ایک آدمی روزانہ راکھشسوں کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔"      ( ١٩٦٢ء، حکایات پنجاب (ترجمہ)، ٢٢:١ )

اشتقاق

فارسی سے اسم 'روز' کے آگے 'انہ' بطور لاحقۂ تمیز و صفت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٠١ء میں "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - مغلیہ عہد میں رائج ایک قسم کا ٹیکس۔ "سالانہ، فصلانہ، ماہانہ، جمعگی، روزانہ، عیدی وغیرہ۔"      ( ١٩٧٥ء، شاہراہِ انقلاب، ٨ ) ١ - ہر روز، ہر روز کا، ہر روز واقع ہونے والا۔ "راجا نے ایک آدمی روزانہ راکھشسوں کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔"      ( ١٩٦٢ء، حکایات پنجاب (ترجمہ)، ٢٢:١ )

اصل لفظ: روز
جنس: مذکر