روزنامچہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ کتابچہ جس میں روزانہ کے تاریخ وار حالات یا حسابات لکھے جائیں، ڈائری۔ "ادب نہ روزنامچہ ہے نہ واقعات کی کھتاؤنی ہے بلکہ اس آگہی، شعور اور روح کا اظہار ہے جو اپنے زمانے میں معنی . نہ کھولتا ہے۔"      ( ١٩٨٣ء، نئی تنقید، ٢٨٣ ) ٢ - وہ رجسٹر جس میں پٹواری یا بعض دوسرے سرکاری ملازم اپنا روزانہ کا کام لکھتے ہیں۔ "پٹوار خانے میں . میلے کچیلے لٹھے میں جمع بندیاں رجسٹر حق داران رجسٹر انتقالات خسرہ کرد اوری اور روزنامچے بند ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، سہ حدہ، ٩٨ ) ٣ - پولیس کی روزانہ کاروائیوں اور تحقیقات کی رپورٹ کا تھانے میں اندراج۔ "اس نے (شہناز پروین سحر) اپنی شاعری کو پولس ڈائری یا روزنامچہ نہیں بنایا۔"      ( ١٩٨٧ء، فنون، لاہور، نومبر | دسمبر، ٢٠٦ )

اشتقاق

فارسی اسم 'روز' کے ساتھ فارسی ہی سے ماخوذ اسم 'نامہ' کی 'ہ' حذف کر کے اس کی جگہ 'چہ' بطور لاحقۂ تصغیر لگا کر حاصل کیا گیا لفظ 'نامچہ' لگا کر مرکب بنایا گیا ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٨٦٣ء میں "مصائب عذر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ کتابچہ جس میں روزانہ کے تاریخ وار حالات یا حسابات لکھے جائیں، ڈائری۔ "ادب نہ روزنامچہ ہے نہ واقعات کی کھتاؤنی ہے بلکہ اس آگہی، شعور اور روح کا اظہار ہے جو اپنے زمانے میں معنی . نہ کھولتا ہے۔"      ( ١٩٨٣ء، نئی تنقید، ٢٨٣ ) ٢ - وہ رجسٹر جس میں پٹواری یا بعض دوسرے سرکاری ملازم اپنا روزانہ کا کام لکھتے ہیں۔ "پٹوار خانے میں . میلے کچیلے لٹھے میں جمع بندیاں رجسٹر حق داران رجسٹر انتقالات خسرہ کرد اوری اور روزنامچے بند ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، سہ حدہ، ٩٨ ) ٣ - پولیس کی روزانہ کاروائیوں اور تحقیقات کی رپورٹ کا تھانے میں اندراج۔ "اس نے (شہناز پروین سحر) اپنی شاعری کو پولس ڈائری یا روزنامچہ نہیں بنایا۔"      ( ١٩٨٧ء، فنون، لاہور، نومبر | دسمبر، ٢٠٦ )

جنس: مذکر