رونق
معنی
١ - زیبائش، زینت، آرائش۔ اک وہ سجدہ جو کر لیا میں نے رونقِ بام و در ہے کیا کہیے ( ١٩٨٢ء، حصارِ انا، ١٢٦ ) ٢ - حسن، خوبی، چمک دمک۔ جاں باز، سرفروش، بہادر، وفا شعار ایک ایک رونقِ چمنستانِ روزگار یہ کیا آدھے چاند پہ رونق آدھے پہ تاریکی یہ کیا صبحِ تمنّا اُن کی، شب القاب ہمارے ( ١٨٧٤ء، مراثی، انیس، ٨٩،٢ )( ١٩٨١ء، ملامتوں کے درمیان، ٥٠ ) ٣ - (عموماً چہرے یا مقام وغیرہ کی) تازگی، طراوت، شادابی۔ قربان رونقِ خط حسارِ سُرخ فام یہ صبح ہے حلب کی توگیسُو ختَن کی شام ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ١٤٨،٢ ) ٥ - چہل پہل، لطف، کیفیت۔ مری بدولت ہے گلستان میں اے باغباں یہ تمام رونق میں نغمۂ عندلیب بن کر ہزار غنچے کھلا رہا ہوں ( ١٩٨٣ء، حصارِ انا، ١٥١ ) ٦ - رواج، ترقی، عروج۔ "اس وقت سے اس زبان نے ایک رونق حاصل کی۔" ( ١٨٤٦ء، تذکرۂ اہل دہلی، ٦ ) ٧ - شان و شوکت، دھوم دھام، ٹِیپ ٹاپ۔ "وہ تو اچھے رونق کے آدمی ہیں۔" ( ١٩٣٨ء، خرماں نصیب، ٧٥ ) ٨ - [ کنایۃ ] پسندیدگی، قبول عام، توصیف۔ "میں نے بہت سے مرثیے نظم کئے اور مجالس میں خود پڑھے اور انکی رونق اور تعریف بیحد و حساب ہوئی۔" ( ١٨٩٦ء، مکتوباتِ شاد عظیم آبادی، ١٧ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء میں "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٦ - رواج، ترقی، عروج۔ "اس وقت سے اس زبان نے ایک رونق حاصل کی۔" ( ١٨٤٦ء، تذکرۂ اہل دہلی، ٦ ) ٧ - شان و شوکت، دھوم دھام، ٹِیپ ٹاپ۔ "وہ تو اچھے رونق کے آدمی ہیں۔" ( ١٩٣٨ء، خرماں نصیب، ٧٥ ) ٨ - [ کنایۃ ] پسندیدگی، قبول عام، توصیف۔ "میں نے بہت سے مرثیے نظم کئے اور مجالس میں خود پڑھے اور انکی رونق اور تعریف بیحد و حساب ہوئی۔" ( ١٨٩٦ء، مکتوباتِ شاد عظیم آبادی، ١٧ )