روکھی

قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )

معنی

١ - بغیر چربی کا گوشت یا قیمہ وغیرہ (چکنا کے بالمقابل)۔  شام تک روٹی تو مل جاتی ہے روکھی ہی سہی ہم نہیں کہتے کہ ہندوستاں ابھی کنگال ہے      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٣٧٩ ) ٢ - بے کیف، بے مزہ، بے زار۔ "ان کی روکھی باتوں پر نہ جانا معاملے کے کھرے، بات کے پکے، پرانی وضعداریوں کی زندہ نشانی ہیں۔"      ( ١٩٢٠ء، اتالیق خطوط نویسی، ٧٦ ) ٣ - بے رونق، بد رنگ، خشک۔ "چہرے کی جلد پر . اب روکھی کھال رہ گئی۔"      ( ١٨٨٥ء، فسانۂ مبتلا، ٣٩ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'روکھا' کی تانیث 'روکھی' اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٥ء کو"تحفۃ المومنین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - بے کیف، بے مزہ، بے زار۔ "ان کی روکھی باتوں پر نہ جانا معاملے کے کھرے، بات کے پکے، پرانی وضعداریوں کی زندہ نشانی ہیں۔"      ( ١٩٢٠ء، اتالیق خطوط نویسی، ٧٦ ) ٣ - بے رونق، بد رنگ، خشک۔ "چہرے کی جلد پر . اب روکھی کھال رہ گئی۔"      ( ١٨٨٥ء، فسانۂ مبتلا، ٣٩ )