روگ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بیماری، مرض، آزاد۔ "ایسا دھوکے باز اطمینان قلب سے محروم کر دیا جاتا ہے روگ بیماریاں اس کا گھر دیکھ لیتی ہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٤٩٨ ) ٢ - دکھ، تکلیف، غم، علّت۔  جہاں ختم ہو گئے سوگ سب جہاں انت ہوگئے روگ سب      ( ١٩٧٧ء، سرکشیدہ، ٦٤ ) ٣ - کوئی چیز جو خلاف طبع یا تکلیف دہ ہو، جنجال، و بال، مصیبت۔  پتھر بن کر یاروں کی اس روگ میں عمریں بیت گئیں کون سے طاق میں سجتے ہم کس میزان میں تلتے ہم      ( ١٩٧١ء، شیشے کے پیرہن، ٦٦ ) ٤ - جھگڑا، فتنہ و فساد۔  شبنم سے لڑانا ہے مجھے روگ سپل کا اے چشم تراک پل نہ تھمے تھے اشک کا ڈھلکا      ( ١٨٧٨ء، سخنِ بے مثال، ١٣ ) ٥ - عیب، نقص، خامی، کمزوری۔ "اُن میں جو بانجھ ہونے کا روگ تھا اس کو اپنی قدرت سے دور کر دیا۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ٧٧:١ ) ٦ - کوئی مشکل یا دقت طلب کام۔ "مسلمانوں کی ہر نسل اسلاف کی رہنمائی . سے اپنے مسائل آپ حل کرے یہ نہیں کہ اپنے لیے ایک روگ تصور کرے۔"      ( ١٩٨٣ء، تنقیدی اور تحقیقی جائزے، ١٥١ ) ٨ - وسوسہ۔ "کیا ان کے دلوں میں کوئی روگ ہے یا وہ ڈرتے ہیں کہ خدا اور ان کا رسول ان کے ساتھ بے انصافی کرے گا۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ١٤٢:٤ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اور اردو میں بھی بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٥٦ء میں "قصہ کامروپ و کلا کام" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بیماری، مرض، آزاد۔ "ایسا دھوکے باز اطمینان قلب سے محروم کر دیا جاتا ہے روگ بیماریاں اس کا گھر دیکھ لیتی ہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ٤٩٨ ) ٥ - عیب، نقص، خامی، کمزوری۔ "اُن میں جو بانجھ ہونے کا روگ تھا اس کو اپنی قدرت سے دور کر دیا۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ٧٧:١ ) ٦ - کوئی مشکل یا دقت طلب کام۔ "مسلمانوں کی ہر نسل اسلاف کی رہنمائی . سے اپنے مسائل آپ حل کرے یہ نہیں کہ اپنے لیے ایک روگ تصور کرے۔"      ( ١٩٨٣ء، تنقیدی اور تحقیقی جائزے، ١٥١ ) ٨ - وسوسہ۔ "کیا ان کے دلوں میں کوئی روگ ہے یا وہ ڈرتے ہیں کہ خدا اور ان کا رسول ان کے ساتھ بے انصافی کرے گا۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ١٤٢:٤ )

جنس: مذکر