رویا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - جو کچھ نیند کی حالت میں نظر آئے، سپنا، خواب۔ "اس واقعہ کو خواب قرار دینے کے لیے باالعموم دو دلیلیں دی جاتی ہیں . اس کے لیے "رویا" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، سیرت سرورِ عالمۖ، ٦٤٨:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے اسم مشتق ہے۔ اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٣١ء میں "دیوانِ ناسخ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جو کچھ نیند کی حالت میں نظر آئے، سپنا، خواب۔ "اس واقعہ کو خواب قرار دینے کے لیے باالعموم دو دلیلیں دی جاتی ہیں . اس کے لیے "رویا" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، سیرت سرورِ عالمۖ، ٦٤٨:٢ )

اصل لفظ: روی
جنس: مذکر