رکابی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - مٹی، چینی یا کسی دھات کا چھوٹا بڑا پھیلا ہوا برتن، صحنک، سفالی، تشتری، پلیٹ۔ "ایک رکابی میں اس کے لیے پانی رکھا اور آہستہ آہستہ اس کے پیروں کو سہلاتی رہی۔"      ( ١٩٨٧ء، اک محشرِ خیال، ٨١ ) ٢ - وہ گھوڑا جسے پریڈ میں پکڑ کر لے جائیں۔  نہ موڑے باگ فوجوں میں حو ہمدم ہم نوالہ ہو کہاں جاوے وہ گھوڑا چھوڑ کر یارو رکابی ہو      ( ١٧٤١ء، شاکر ناجی، د، ٢٢٤ )

اشتقاق

عربی میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم رکاب کے آگے 'ی' بطور لاحقۂ تانیث لگایا گیا ہے۔ اردو میں اصل مفہوم اور ساخت کے ساتھ مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٨٠ء میں سودا کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مٹی، چینی یا کسی دھات کا چھوٹا بڑا پھیلا ہوا برتن، صحنک، سفالی، تشتری، پلیٹ۔ "ایک رکابی میں اس کے لیے پانی رکھا اور آہستہ آہستہ اس کے پیروں کو سہلاتی رہی۔"      ( ١٩٨٧ء، اک محشرِ خیال، ٨١ )

اصل لفظ: رکب
جنس: مؤنث