رکوع

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - جکھنا۔ "رکوع کے لفظی معنی جھکنے کے ہیں"      ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ١٥٥:١ ) ٢ - "نماز میں گھنٹوں پر ہاتھ رکھ جھکنے اور مقر، کلمات ادا کرنے کا عمل یہ نماز کا چوتھا فرض یا رُکن ہے" میں آخر شب کی توبہ کرنے کے بعد حب بھی رکوع سے اٹھوں گا اس پر پھٹکار بھیجوں گا یہی ہہت ہے      ( ١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ١٠٤ ) ٣ - [ قرآن ]  سورۃ یا سیپارے میں چند آیتوں کے اختتام کا وہ مقام جس پر آیت نشان بنا ہوتا ہے۔ "قرآن شریف میں جس قدر آیات صریحاً تصوف کے متلق ہوں ان کا پتہ دیجئے سیپارہ اور رکوع کا پتہ لکھیے"      ( ١٩٠٥ء، مکاتیبِ اقبال، ٣٥٤:٢ )

اشتقاق

عربی میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی اور ساخت کے ساتھ مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٥ء "جواہر اسرار اللہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جکھنا۔ "رکوع کے لفظی معنی جھکنے کے ہیں"      ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ١٥٥:١ ) ٢ - "نماز میں گھنٹوں پر ہاتھ رکھ جھکنے اور مقر، کلمات ادا کرنے کا عمل یہ نماز کا چوتھا فرض یا رُکن ہے" میں آخر شب کی توبہ کرنے کے بعد حب بھی رکوع سے اٹھوں گا اس پر پھٹکار بھیجوں گا یہی ہہت ہے      ( ١٩٨١ء، اکیلے سفر کا اکیلا مسافر، ١٠٤ ) ٣ - [ قرآن ]  سورۃ یا سیپارے میں چند آیتوں کے اختتام کا وہ مقام جس پر آیت نشان بنا ہوتا ہے۔ "قرآن شریف میں جس قدر آیات صریحاً تصوف کے متلق ہوں ان کا پتہ دیجئے سیپارہ اور رکوع کا پتہ لکھیے"      ( ١٩٠٥ء، مکاتیبِ اقبال، ٣٥٤:٢ )

اصل لفظ: رکع
جنس: مذکر