رکھوالا
معنی
١ - محافظ، حفاظت کرنے والا، نگہبان، چوکیدار، کھیت کی نگہبانی کرنے والا، ناظر، نگراں۔ "کھجوروں کے باغات بھی ایسی تباہ حالت میں نظر آتے ہیں جیسے کوئی ان کا رکھوالا نہ ہو۔" ( ١٩٨٤ء، سندھ اور نگاہِ قدر شناس، ٦١ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ فعل متعدی رکھنا کے اسم 'رکھ' کے ساتھ 'والا' بطور لاحقہ توصیفی لگا کر اردو کے قاعدے سے اسم فاعل بنایا گیا۔ سب سے پہلے ١٧٠٧ء میں ولی کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - محافظ، حفاظت کرنے والا، نگہبان، چوکیدار، کھیت کی نگہبانی کرنے والا، ناظر، نگراں۔ "کھجوروں کے باغات بھی ایسی تباہ حالت میں نظر آتے ہیں جیسے کوئی ان کا رکھوالا نہ ہو۔" ( ١٩٨٤ء، سندھ اور نگاہِ قدر شناس، ٦١ )