رگڑانا
قسم کلام: فعل متعدی
معنی
١ - ستانا کہوں کیا ایک بوسہ لب کا دے کر خوب رگڑایا رکھی برسوں تلک منت کبھو کی بات مانے کی ( ١٨١٠ء، میر، کلیات، ٦٥١ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'رگڑ' کے ساتھ 'انا' بطور لاحقۂ تعدیہ لگانے سے 'رگڑانا' بنا۔ اردو میں بطور فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: رَگْڑ