رہا

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - (عارضی طور پر) قیام کرنا، ٹھہرنا، رہنا کا ماضی (تراکیب میں مستعمل)۔  رہا اگر نہ مجھے ہوش عشق میں نہ رہا تمہارا دل ہے کہاں تم خبر نہیں رکھتے      ( ١٨٧٨ء، گلزار داغ، ٢٠٨ ) ٢ - [ فقرہ ]  جہاں تک تعلق ہے، اب باقی رہا۔ "رہا عملی زندگی کا سورال، سو یہ کہنا کافی ہوگا کہ تین سال سے مجھے مزدوری کی عادت پڑ چکی ہے۔"      ( ١٩٤٣ء، حرف آشنا، ٢٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'رہنا' کا ماضی 'رہا' اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٨ء کو "گلزار داغ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ فقرہ ]  جہاں تک تعلق ہے، اب باقی رہا۔ "رہا عملی زندگی کا سورال، سو یہ کہنا کافی ہوگا کہ تین سال سے مجھے مزدوری کی عادت پڑ چکی ہے۔"      ( ١٩٤٣ء، حرف آشنا، ٢٣ )

اصل لفظ: رہنا