رہائش

قسم کلام: اسم ظرف مکان

معنی

١ - رہن سہن، بود و باش، قیام، سکونت۔ "رہائش کے لیے مخصوص منزل میں اوپر سے کھلا ہوا دالان ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٤٧١:٣ ) ٢ - ضبط و برداشت۔ (جامع اللغات؛ نوراللغات)

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ اردو مصدر رہنا سے فعل امر 'رہ' کے آگے 'ا' لگانے سے حالیہ تمام 'رہا' بنا۔ اردو 'رہا' کے آگے لاحقہ حاصل مصدر 'ئش' لگا کر بہ انداز فارسی اسم مصدر 'رہائش' بنایا گیا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٩٣ء میں "بست سالہ عہدِ حکومت" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رہن سہن، بود و باش، قیام، سکونت۔ "رہائش کے لیے مخصوص منزل میں اوپر سے کھلا ہوا دالان ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٤٧١:٣ )

اصل لفظ: رہا
جنس: مؤنث