رہائی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - قید سے چھٹکارا، چھٹی، نجات، آزادی؛ فرصت، فراغت۔  کس طرح دامِ غلامی سے رہائی پاؤں آہ کس طرح، مری جاں، ترے پاس آؤں      ( ١٩٨٤ء، سمندر، ٧٧ )

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ اردو مصدر رہنا سے فعل 'رہ' کے آخر پر 'ا' لگانے سے حالیہ تمام 'رہا' بنا۔ جس کے آخر پر 'ئی' بطور لاحقہ کیفیت لگانے سے 'رہائی' بنا۔ جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٧٨٤ء میں "دیوان محبت" کے قلمی نسخے میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: رہا
جنس: مؤنث