رہٹ

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - (کاشتکاری) وہ چرخ جسکے ذریعے سے کُنؤیں کے اندر سے پانی نکالتے ہیں۔ "گلاب باڑی کے لیے میں رَہَٹ چلاتا تھا۔"      ( ١٩٨٦ء، آئینہ، ١٧٨ ) ٢ - چکر "سب عورتیں زچہ کے پلنگ کو چاروں طرف سے گھیر کر بیٹھ جاتی ہیں ایک . دوسری عورت کو . تیسری عورت کو بگیر بچہ کہہ حوالے کر دیتی ہے وہ لفظ اللہ نگہبان بچہ ادا کر اسے لے چوتھی عورت کو دے دیتی ہے اور اس طرح یہ رَہَٹ پوررا کر دیا جاتا ہے۔"      ( ١٩٠٥ء، رسومِ دہلی، ٢٤ ) ٣ - معمول، تسلسل، سلسلہ۔ "زبان بھی ترقی و تنزل کا درجہ حاصل کر کے زبان و دہان سے روپوش ہو جائے گی یعنی پرانی کتابوں کے سوا کہیں اس کا پتہ نہیں ملے گا اور اسی طرح ہمیشہ یہ رہٹ جاری رہے گا۔"      ( ١٨٩٥ء، علم اللسان، ٤٠٩ )

اشتقاق

پراکرت زبان کے لفظ 'اَرْہَٹِ' سے ماخوذ ہے۔ یہ قیاس بھی کیا جاتا ہے کہ سنسکرت زبان کے لفظ آرگھٹ سے ماخوذ ہو لیکن غالب گمان یہی ہے کہ پراکرت سے ماخوذ ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے سب سے پہلے ١٦٧٩ء میں "دیوان شاہ سلطان ثانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (کاشتکاری) وہ چرخ جسکے ذریعے سے کُنؤیں کے اندر سے پانی نکالتے ہیں۔ "گلاب باڑی کے لیے میں رَہَٹ چلاتا تھا۔"      ( ١٩٨٦ء، آئینہ، ١٧٨ ) ٢ - چکر "سب عورتیں زچہ کے پلنگ کو چاروں طرف سے گھیر کر بیٹھ جاتی ہیں ایک . دوسری عورت کو . تیسری عورت کو بگیر بچہ کہہ حوالے کر دیتی ہے وہ لفظ اللہ نگہبان بچہ ادا کر اسے لے چوتھی عورت کو دے دیتی ہے اور اس طرح یہ رَہَٹ پوررا کر دیا جاتا ہے۔"      ( ١٩٠٥ء، رسومِ دہلی، ٢٤ ) ٣ - معمول، تسلسل، سلسلہ۔ "زبان بھی ترقی و تنزل کا درجہ حاصل کر کے زبان و دہان سے روپوش ہو جائے گی یعنی پرانی کتابوں کے سوا کہیں اس کا پتہ نہیں ملے گا اور اسی طرح ہمیشہ یہ رہٹ جاری رہے گا۔"      ( ١٨٩٥ء، علم اللسان، ٤٠٩ )

اصل لفظ: اَرْہَٹِ
جنس: مذکر