ریاکار
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - مکار، عیار، زمانہ ساز، فریبی۔ "صاحبِ صدر کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں اے میرے ریاکار قاری۔" ( ١٩٨٧ء، اک محشرِ خیال، ٥٠ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'ریا' کے ساتھ فارسی مصدر 'کردن' سے اسم فاعل 'کار' بطور لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦٦٥ء میں "علی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مکار، عیار، زمانہ ساز، فریبی۔ "صاحبِ صدر کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں اے میرے ریاکار قاری۔" ( ١٩٨٧ء، اک محشرِ خیال، ٥٠ )