ریح

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ہوا، باد، پون، جھکڑ۔ "ایک خبر نجومیوں نے مشہور کی تھی کہ . ایک ریح عایۃ فلاں دن فلاں تاریخ چلے گی۔"      ( ١٨٨٨ء، حسن، ستمبر، ٢٣ ) ٢ - گندی ہوا جو پیٹ میں پیدا ہوتی ہے اور مقعد سے خارج ہوتی ہے۔ "بڑی زور سے اس کی ریح نکلی۔"      ( ١٩٤٢ء، الف لیلہ و لیلہ، ٣٦١:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اپنے اصل معنی اور ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٧٢ء میں عبداللہ قطب شاہ کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہوا، باد، پون، جھکڑ۔ "ایک خبر نجومیوں نے مشہور کی تھی کہ . ایک ریح عایۃ فلاں دن فلاں تاریخ چلے گی۔"      ( ١٨٨٨ء، حسن، ستمبر، ٢٣ ) ٢ - گندی ہوا جو پیٹ میں پیدا ہوتی ہے اور مقعد سے خارج ہوتی ہے۔ "بڑی زور سے اس کی ریح نکلی۔"      ( ١٩٤٢ء، الف لیلہ و لیلہ، ٣٦١:٢ )

اصل لفظ: راح
جنس: مؤنث