ریل

قسم کلام: اسم آلہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - تار یا تاگا لپیٹنے کی بیلن نما بنی ہوئی چوبی پھرکی، گٹی۔ "پورے نو آنے ہوئے، پانچ پیسے کا بنڈل سوا دس آنے، تین پیسہ کی ریل پورے گیارہ آنے۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٩٠ ) ٢ - گٹی کی طرح کی بڑی پھرکی جس کے دونوں طرف ڈنڈیاں نکلی ہوئی ہوتی ہیں، پتنگ کی ڈوریاں، مانجھا لپیٹنے کے لیے مستعمل نیز ریل پر لپٹا ہوا مانجھا یا ڈور۔ "پرسوں کنکوا لڑے گا، ریل ستوا لینا۔"      ( ١٩٦٩ء، مہذب اللغات، ١٦٦:٦ ) ٣ - فلم کی ایک پٹی جسے ایک ریل یا چرخی پر چڑھا کر چلایا جاتا ہے۔ "زندگی کی ایک چلتے ہوئے فلم ریل کی طرح پیچھے کی طرف لوٹتی ہے تو کیسے کیسے بھیانک اور عبرت انگیز مناظر پیدا ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٧٢ء، نکتہ راز، ١٢٣ )

اشتقاق

انگریزی زبان سے اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل مفہوم کے ساتھ عربی رسم الخط میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٨٩١ء میں رسالہ "حسن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تار یا تاگا لپیٹنے کی بیلن نما بنی ہوئی چوبی پھرکی، گٹی۔ "پورے نو آنے ہوئے، پانچ پیسے کا بنڈل سوا دس آنے، تین پیسہ کی ریل پورے گیارہ آنے۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ١٩٠ ) ٢ - گٹی کی طرح کی بڑی پھرکی جس کے دونوں طرف ڈنڈیاں نکلی ہوئی ہوتی ہیں، پتنگ کی ڈوریاں، مانجھا لپیٹنے کے لیے مستعمل نیز ریل پر لپٹا ہوا مانجھا یا ڈور۔ "پرسوں کنکوا لڑے گا، ریل ستوا لینا۔"      ( ١٩٦٩ء، مہذب اللغات، ١٦٦:٦ ) ٣ - فلم کی ایک پٹی جسے ایک ریل یا چرخی پر چڑھا کر چلایا جاتا ہے۔ "زندگی کی ایک چلتے ہوئے فلم ریل کی طرح پیچھے کی طرف لوٹتی ہے تو کیسے کیسے بھیانک اور عبرت انگیز مناظر پیدا ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٧٢ء، نکتہ راز، ١٢٣ )

اصل لفظ: Reel