زائد

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - زیادہ، بڑھا ہوا، اصل پر اضافہ شدہ۔ "عمو جان اور ان کے درمیان تیس سال سے زائد کی مدت حاوی ہے"      ( ١٩٨٣ء، حصار انا، ١٩ ) ٢ - فضول، بے کار۔ "فضول اور زاید باتوں سے انہیں طبعی نفرت تھی"      ( ١٩٣١ء، مقدمات عبدالحق، ٢٥:١ ) ٣ - فالتو۔ "سطح زمین کے زائد کو نکال دیا جاتا ہے"      ( ١٩٦٤ء، معاشی و تجارتی جغرافیہ، ٣٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٣٩ء کو "اعمال کرہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - زیادہ، بڑھا ہوا، اصل پر اضافہ شدہ۔ "عمو جان اور ان کے درمیان تیس سال سے زائد کی مدت حاوی ہے"      ( ١٩٨٣ء، حصار انا، ١٩ ) ٢ - فضول، بے کار۔ "فضول اور زاید باتوں سے انہیں طبعی نفرت تھی"      ( ١٩٣١ء، مقدمات عبدالحق، ٢٥:١ ) ٣ - فالتو۔ "سطح زمین کے زائد کو نکال دیا جاتا ہے"      ( ١٩٦٤ء، معاشی و تجارتی جغرافیہ، ٣٤ )

اصل لفظ: زید