زائدہ
معنی
١ - زیادہ، اضافی۔ "ماضی کے صیغوں پر اکثر بائے زائدہ لگا کر کلام میں خوبصورتی پیدا کرتے ہیں۔" ( ١٨٨٩ء، جامع القواعد، محمد حسین آزاد، ٢١ ) ١ - (نباتیات، حیوانیات، تشریح) ابھار، عضو کا ابھار۔ "یہ دونوں زائدے قلب کے سکڑتے وقت ڈھیلے ہو جاتے۔" ( ١٩٣٦ء، شرح اسباب (ترجمہ)، ٣٠٦:٢ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ صفت 'زائد' کے ساتھ 'ہ' بطور لاحقۂ تانیث لگانے سے 'زائدہ' بنا۔ اردو میں صفت اور گاہے بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٥٥ء کو "تعلیم الصبیان" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - زیادہ، اضافی۔ "ماضی کے صیغوں پر اکثر بائے زائدہ لگا کر کلام میں خوبصورتی پیدا کرتے ہیں۔" ( ١٨٨٩ء، جامع القواعد، محمد حسین آزاد، ٢١ ) ١ - (نباتیات، حیوانیات، تشریح) ابھار، عضو کا ابھار۔ "یہ دونوں زائدے قلب کے سکڑتے وقت ڈھیلے ہو جاتے۔" ( ١٩٣٦ء، شرح اسباب (ترجمہ)، ٣٠٦:٢ )