زبرہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ دو روشن ستارے جو برج اسد کے دوش پر واقع ہیں۔ "چار ستارے واقع گردن کو جبہہ اور ستارگان بطن اور تہی گاہ کو زبرہ . کہتے ہیں۔"      ( ١٨٧٧ء، عجائب المخلوقات (ترجمہ)، ٥٧ ) ٢ - قدیم علم نجوم کے نزدیک چاند کی گیارہویں منزل۔ "کنیز نے کہا چاند کی اٹھائیس منزلیں ہیں . طرف، جبہہ، زبرہ . افشاء ان کی تعداد ابجد ہور کے حروف کی تعداد ہے۔"      ( ١٩٤٢ء، الف لیلہ و لیلہ، ٥٤٤:٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٧ء کو "عجائب المخلوقات" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ دو روشن ستارے جو برج اسد کے دوش پر واقع ہیں۔ "چار ستارے واقع گردن کو جبہہ اور ستارگان بطن اور تہی گاہ کو زبرہ . کہتے ہیں۔"      ( ١٨٧٧ء، عجائب المخلوقات (ترجمہ)، ٥٧ ) ٢ - قدیم علم نجوم کے نزدیک چاند کی گیارہویں منزل۔ "کنیز نے کہا چاند کی اٹھائیس منزلیں ہیں . طرف، جبہہ، زبرہ . افشاء ان کی تعداد ابجد ہور کے حروف کی تعداد ہے۔"      ( ١٩٤٢ء، الف لیلہ و لیلہ، ٥٤٤:٣ )

اصل لفظ: زبر
جنس: مذکر