زبور
قسم کلام: اسم معرفہ
معنی
١ - وہ صحیفہ جو حضرت داؤدؑ پر نازل ہوا تھا، حضرت داؤدؑ کے نغمات۔ "حضرت داؤدؑ کی کتاب کو زبور کہا گیا ہے۔" ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٩٤:٣ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اصل حالت اور اصل معنی میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨١٨ء کو انشا کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - وہ صحیفہ جو حضرت داؤدؑ پر نازل ہوا تھا، حضرت داؤدؑ کے نغمات۔ "حضرت داؤدؑ کی کتاب کو زبور کہا گیا ہے۔" ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٩٤:٣ )
اصل لفظ: زبر
جنس: مذکر