زجر

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ڈانٹنے یا جھڑکنے کا عمل، سرزنش، ملامت، ڈانٹ پھٹکار۔ "وہ زجر و سرزنش کو سزا کا آخری درجہ سمجھتے تھے۔"      ( ١٩٣٨ء، تذکرۂ وقار، ٢٧ ) ٢ - فال نکالنے، پیشگوئی کرنے یا شگون لینے کا عمل (خاص طور سے پرندے اڑانے کے ذریعے کہ اگر وہ دائیں طرف سے اڑے تو نیک شگون سمجھا جائے گا اور بائیں طرف سے اڑے تو بد)۔ "قیاس، زجر، فال، کہانت، فراست، نجوم اور خواب سب سے ہم نے اس کو معلوم کر لیا ہے۔"      ( حکمائے اسلام، ١٩٥٣ء، ٣٠٠:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٤٢ء کو "الف لیلہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ڈانٹنے یا جھڑکنے کا عمل، سرزنش، ملامت، ڈانٹ پھٹکار۔ "وہ زجر و سرزنش کو سزا کا آخری درجہ سمجھتے تھے۔"      ( ١٩٣٨ء، تذکرۂ وقار، ٢٧ ) ٢ - فال نکالنے، پیشگوئی کرنے یا شگون لینے کا عمل (خاص طور سے پرندے اڑانے کے ذریعے کہ اگر وہ دائیں طرف سے اڑے تو نیک شگون سمجھا جائے گا اور بائیں طرف سے اڑے تو بد)۔ "قیاس، زجر، فال، کہانت، فراست، نجوم اور خواب سب سے ہم نے اس کو معلوم کر لیا ہے۔"      ( حکمائے اسلام، ١٩٥٣ء، ٣٠٠:١ )

اصل لفظ: زجر
جنس: مذکر