زخمہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ستار وغیرہ بجانے کا مثلث نما آہنی چھلا، مضراب۔ "باج کے تاروں کے نیچے پھیلے ہوئے اوپر کے تاروں پہ مضراب یا زخمہ کی ضرب اور مغنی کے سانس سے . درد کی ہلکی سی 'آس' سنائی دیتی رہتی ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ٧ ) ٢ - گدھ "زخمہ یعنی کرگس، یہ انڈے دینے کو پہاڑوں کے کنارے اور درے تلاش کرتا ہے۔"      ( ١٨٧٧ء، عجائب المخلوقات (ترجمہ)، ٥٤٤ )

اشتقاق

اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٦٥ء کو "تتمۂ پھول بن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ستار وغیرہ بجانے کا مثلث نما آہنی چھلا، مضراب۔ "باج کے تاروں کے نیچے پھیلے ہوئے اوپر کے تاروں پہ مضراب یا زخمہ کی ضرب اور مغنی کے سانس سے . درد کی ہلکی سی 'آس' سنائی دیتی رہتی ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ٧ ) ٢ - گدھ "زخمہ یعنی کرگس، یہ انڈے دینے کو پہاڑوں کے کنارے اور درے تلاش کرتا ہے۔"      ( ١٨٧٧ء، عجائب المخلوقات (ترجمہ)، ٥٤٤ )

جنس: مذکر