زدہ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - خراب و خستہ، فلاکت رسیدہ۔ "دوسرے لڑکوں کی زدہ حالت دیکھ کر رحم آتا ہے۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت مضامین، ١٧٧:٤ )

اشتقاق

فارسی زبان میں مصدر 'زدن' سے مشتق صیغۂ ماضی مطلق'زر' کے ساتھ لاحقۂ حالیہ تمام 'ہ' لگنے سے 'زدہ' بنا۔ اردو میں فارسی سے ماخوذ ہے اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٩٨١ء کو "قصہ جاجی اصفہانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خراب و خستہ، فلاکت رسیدہ۔ "دوسرے لڑکوں کی زدہ حالت دیکھ کر رحم آتا ہے۔"      ( ١٩٤٧ء، فرحت مضامین، ١٧٧:٤ )