زرتار

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - سونے کا تار، سنہری تار۔ "کانوں میں سرس کے پھولوں کا جھومر ہونا چاہیے جس کے زرتار گالوں کوچوم رہے ہوں۔"      ( ١٩٣٨ء، شکنتلا (اختر حسین رائے پوری)، ١٥٧ ) ٢ - [ نباتیات ]  پودوں کا باریک دھاگے نما ریشہ جس پر زیرۂ گل لگا ہو۔ "رشتک یا زرتار یہ باریک دھاگے نما ریشہ ہے جس پر زردان لگا ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٤ء، ابتدائی نباتیات، ٨٧ ) ١ - سنہرا، چمکیلا، درخشاں۔  سراپا آزاد دستار گراں کے بار سے اور تن نا آشنا تھا خرقۂ زرتار سے      ( ١٩٧١ء، سبطین (تذکرۂ شعرائے بدایوں)، ٣٩٩:١ )

اشتقاق

فارسی زبان سےماخوذ اسما 'زر' پر مشتمل مرکب 'زرتار' اردو میں بطور صفت اور گاہےبطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سونے کا تار، سنہری تار۔ "کانوں میں سرس کے پھولوں کا جھومر ہونا چاہیے جس کے زرتار گالوں کوچوم رہے ہوں۔"      ( ١٩٣٨ء، شکنتلا (اختر حسین رائے پوری)، ١٥٧ ) ٢ - [ نباتیات ]  پودوں کا باریک دھاگے نما ریشہ جس پر زیرۂ گل لگا ہو۔ "رشتک یا زرتار یہ باریک دھاگے نما ریشہ ہے جس پر زردان لگا ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٤ء، ابتدائی نباتیات، ٨٧ )

جنس: مذکر