زعیم

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - ضامن، جوبداہ۔  کھیل ان کے، درس ان کا، وہ معلم وہ زعیم نبض گلشن چھیڑتے ہیں وہ تو چلتی ہے نسیم      ( ١٩٤٢ء، اسرار، ١٢٤ ) ١ - رہنمائے قوم، نمایندہ لیڈر۔ "تیسرے زعیم حضرت سلمان فارسی آگ کے پوجنے والے تھے، پھر عیسائی بنے اور اللہ نے توفیق دی تو اسلام لے آئے۔"      ( ١٩٨٥ء، طوبٰی، ٢٧٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں عربی سے ماخوذ ہے اسم اور گاہے بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٦٧ء کو "نورالہدایہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رہنمائے قوم، نمایندہ لیڈر۔ "تیسرے زعیم حضرت سلمان فارسی آگ کے پوجنے والے تھے، پھر عیسائی بنے اور اللہ نے توفیق دی تو اسلام لے آئے۔"      ( ١٩٨٥ء، طوبٰی، ٢٧٠ )

اصل لفظ: زعم